ساس کے ساتھ زنا سے حرمت مصاہرت
سوال
زید نے اپنی ساس کے ساتھ زنا کیا،سہواً کیا یا قصداً، بہر صورت اس کی بیوی حرام ہوگئی یا نہیں؟ اگر حرام ہو گئی ہے تو پھر دوبارہ شادی کرنے سے حلال ہوگی یا نہیں؟ اور اگر حرام نہ ہو تو اس بیوی کو طلاق صریح دینے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور بغیر طلاق کے وہ بیوی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں زید کی بیوی زید پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی دوبارہ نکاح کر کے بھی حلال نہیں ہوگی۔ اس کو طلاق دیدے یا کہہ دے کہ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اگر مدخولہ ہے تو عدت گزار کر اور اگر غیر مدخولہ ہے تو بغیر عدت گزارے اس کا نکاح دوسرے شخص سے جائز ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔