حرمت مصاہرت پر اشکال کا جواب
سوال
ایک مسئلہ ہے مرد رات کو اپنی بیوی کو جگانے کے لئے اٹھا مگر غلطی سے لڑکی پر ہاتھ پڑ گیا یا ساس پر پڑ گیا اور بیوی سمجھ کر جوانی کی خواہش کے ساتھ اس کو ہاتھ لگایا تو وہ مرد اپنی بیوی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گیا لازم ہے کہ یہ مرد اب اس عورت کو طلاق دیدے اس میں غلطی کی کوئی رعایت نہیں جب منشاء دلی اس کا ایک فعل کا نہیں تھا تو ایسی سخت سزا کیوں دی جاتی ہے۔ پھر یہ کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ نزلہ بر عضو ضعیف ریز د کا مضمون ہے۔ والسلام
جواب
اگر کوئی ہرن کے بندوق مارے اور کسی آدمی کے غلطی سے لگ جائے تو اس غلطی سے بالکل تو اس کی معافی نہیں ہو جاتی ہے، بلکہ خون بہا دلایا جاتا ہے اور وہ بھی مارنے والے کے اعزاء سے دلایا جاتا ہے۔ دیکھئے یہاں بھی اسی طرح یعنی اگر جان کر مارتا تو قتل کیا جاتا غلطی کی تو اتنی رعایت ہوئی کہ خون بہا سے جان بچ گئی نیز گناہ نہیں ہوا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔