الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسرے کے خون دینے سے کوئی رشتہ قائم نہیں ہوتا

سوال

ایک مسلمان دوسرے مسلمان مرد یا عورت کو خون دے تو ان دونوں کے درمیان رشتہ کس طرح ہو جاتا ہے یعنی مرد کا خون مرد کو دیا جائے تو کیا دونوں خون کے رشتے سے بھائی ہو جاتے ہیں یا مرد کا خون عورت کو دیں تو دونوں بھائی بہن ہو جاتے ہیں۔ اور کیا دونوں کا نکاح جائز ہوتا ہے۔

جواب

اس کی وجہ سے ان میں کوئی رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ جیسے پہلے تھے ویسے ہی رہیں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو