تبدیل جنس سے پہلے اور بعد کی اولاد میں مناکحت
سوال
ایک عورت تھی وہ مرد بن گئی۔ عورت ہونے کے زمانہ میں اس کے ایک لڑکا تھا۔ اب مرد بننے کے بعد اس کے چند بچے پیدا ہوئے ان میں ایک لڑکی بھی ہے کیا عورت ہونے کے زمانہ میں جولڑکا پیدا ہوا تھا اس کی شادی اس لڑکی سے جائز ہوگی جومرد ہونے کے بعد پیدا ہوئی ہے نیز پہلے والے لڑکے اور بعد والی لڑکی کے درمیان بھائی چارہ کی کونسی نسبت ہوگی وہ سگے بھائی بہن ہوں گے یا اخیافی وعلاتی۔ یہ واقعہ بھی اٹلی میں وقوع پذیر ہو چکا ہے؟
جواب
ایک ہی ذات سے جولڑکا لڑکی پیدا ہوئے اگر چہ ہر ایک کی پیدائش پر اس کی صفت جدا گانہ تھی۔ پھر بھی ایک ذات سے مولود ہونے کی بناء پر ان کے درمیان ازدواج کا تعلق درست نہیں۔ جس طرح عینی بہن سے نکاح حرام ہے اسی طرح علاقی اور اخیافی بہن سے بھی حرام ہے ہر ایک کی تولید کے وقت جو مولود منہ کی صفت تھی اسی کے اعتبار سے رشتہ قائم کیا جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔