بھانجی کی لڑکی سے نکاح / استفتاء ان باتوں کا ہے:
سوال
زید نے اپنی سگی بہن کی بیٹی کی بیٹی یعنی اپنی سگی بھانجی کی بیٹی سے نکاح کر دیا جس میں دو آدمی گواہ تھے اور حالت نکاح میں زید اور اس کی بھانجی کی بیٹی دونوں بالغ تھے، اور زید مذکور اپنی سگی بہن کی بیٹی کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً حلال سمجھتا ہے، اور قیاس بھی کرتا ہے جیسا کہ اپنی پھوپھی سے نکاح کرنا حرام مگر اس کی بیٹی سے حلال ہے و قال رجل آخر جاء فی تفسیر خازن قوله تعالى وبنات الاخ وبنت الاخت اھ پارہ لن تنالوا ص ۳۴۰ وفی الدر المختار على حاشية رد المحتار ص ۳۰۱ حرم على المتزوج ذكرا كان او انثى نکاح اصله وفروعه علا او…
جواب
(۱) یہ نکاح ناجائز ہے۔ متون شروح فتاویٰ سب میں عدم جواز مصرح ہے۔ کسی کتاب میں اس کا جواز نہیں ہے۔ (۳) نسب تو ثابت ہے احتیاطاً میراث کا استحقاق نہیں ہوگا۔ و اما الارث فلا تثبت فيه اھ طحطاوی ص ۶/ ج ۲. (۴) واجب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔