بھانجی کی لڑکی سے نکاح
سوال
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں چودہ عورتوں کی تخصیص فرمائی ہے اور ماسواء ان چودہ عورتوں کے جن جن عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے ان سب کی تشریح حدیث میں صراحہ بیان فرمائی ہے اب احل لكم ما وراء ذلکم سے چودہ عورتوں کے سوا جتنی عورتیں ہیں سب سے نکاح کرنا جائز معلوم ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں بنات الاخ وبنات الاخت کی حرمت آئی ہے یعنی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت آئی ہے بھانجی کی لڑکی سے نکاح کرنے کی حرمت کہاں سے ثابت ہوتی ہے۔
جواب
وتحرم عليه بنات الاخ بالنص وهو قوله تعالى وبنات الاخ وبنات الاخت وان سفلن بالاجماع بدائع ص۲۵۷/ ج ۲ / اس سے معلوم ہوا کہ بھانجی کی لڑکی سے نکاح حرام ہے اور یہ حرمت اجماع سے ثابت ہے۔ (ويحرم ابنة اخته لاب وام اولاحدهما لقوله تعالى واخواتكم وفيها لقوله تعالى وبنات الاخت وابنة اخيه لاب وام او لاحدهما لقوله تعالى وبنات الاخ وان سفلن لعموم المجاز او دلالة النص او الاجماع مجمع الانهر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔