ساس سے نکاح
سوال
ایک شخص بمبئی میں رہتا ہے۔ اس نے ایک شخص کو اپنے نکاح کا وکیل بنا کر وطن بھیج دیا۔ وکیل نے نکاح کرا دیا اس کے بعد اس نے بمبئی سے طلاق دیدی بغیر خلوت کے دریافت طلب یہ ہے کہ یہ شخص اپنی غیر مدخولہ مطلقہ زوجہ کی ماں سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
نکاح بالتوکیل صحیح ہے اور نکاح صحیح کے بعد زوجہ کی ماں حرام ہو جاتی ہے خلوت سے پہلے طلاق دی ہو یا بعد میں کما في القرآن وامهات نسائكم الآية وكما في الحديث ايما رجل نكح المرأة فلا يحل له ان ينكح امها دخل بها او لم يدخل بها. مشكوة شريف ص ۲۷۵ / وحرم بالمصاهرة بنت زوجته الموطؤة وام زوجته وجداتها مطلقاً بمجرد العقد الصحيح وان لم تؤطا الزوجة (شامی ص ۲۷۸ رج ۲ رنعمانیہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔