الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حاملہ اور زانیہ کا نکاح

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت منکوحہ اپنے خاوند کو چھوڑ کر اس کی بلا مرضی بازار میں بیٹھ گئی اور فحش پیشہ کرنے لگی مسمی زید ایک شخص نے قومی غیرت وشرم سے اس عورت کو اپنے گھر میں رکھ لیا اور قوم نے تعلقات اس بناء پر ترک کر دئیے اسی حالت میں اس کے ایک لڑکی پیدا ہوئی بعد میں جرمانہ داخل کرنے کے بعد اور معافی مانگ لینے سے زید قوم میں داخل ہو گیا مگر وہ عورت اسی طرح اس کے پاس ہے تو اب اس لڑکی (جو کہ حرام نطفہ سے ہے) کا نکاح کر دینا اور اس کو اپنے گھر لے جانا درست ہے۔ یا نہیں؟

جواب

زنا سے پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا نکاح دوسرے سے صحیح ہو جاتا ہے، بشرطیکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو اسی طرح اس کا نکاح بھی پڑھنا پڑھانا درست ہے مال کا جرمانہ جائز نہیں تنبیہ کی اگر شرعی ضرورت ہو دوسرے طرق مقاطعہ وغیرہ سے کرنا چاہئے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو