مزنیہ منکوحہ سے زانی کا نکاح بلا عدت
سوال
ایک شخص کسی دوسرے کی عورت کو لاتا ہے چار پانچ سال اپنے گھر رکھتا ہے، اس سے بچے بھی پیدا ہو گئے۔ اب اس کو طلاق بھی ہوگئی ہے۔ تو کیا اب بغیر توبہ واستغفار وعدت اس زانیہ مطلقہ سے اس زانی کا نکاح درست ہے یا نہیں؟ بغیر عدت کے نکاح ہو جاتا ہے یا نہیں؟
جواب
جس طرح زنا کرنا حرام ہے اسی طرح طلاق کے بعد عدت میں نکاح کرنا بھی حرام ہے، اگر چہ وہ عورت اپنے شوہر سے کتنی ہی مدت سے الگ اور زنا میں مبتلا ہو۔ ایسی ہٹ بہت خطر ناک ہے۔ اس کو لازم ہے کہ اس عورت کو فوراً جدا کر دے اور توبہ واستغفار کرے۔ جب طلاق کے بعد عدت تین ماہواری ختم ہو جائیں تب اس سے نکاح کرے ورنہ سخت قہر میں گرفتار ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔