الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زوجہ غائب کے نکاح کی صورت

سوال

زید نے نابالغہ لڑکی کا نکاح بعمر چھ سال کر دیا تھا، اس وقت لڑکے کی عمر دس سال کی تھی، جب لڑکی بالغہ ہو گئی اور لڑکا بھی بالغ ہو گیا تو بغیر اطلاع کئے وہ لڑکا کہیں فرار ہو گیا، جب تین سال گذر گئے تو لڑکے کے والد نے کہا کہ شاید میرالڑ کا مر گیا، تم اپنی لڑکی کی شادی کہیں اور کر دو، چار سال میں ایک ماہ کم تھا کہ دوسری جگہ نکاح پڑھا دیا، اب وہ لڑ کی دوسرے شوہر کے گھر ایک ہفتہ سے تھی کہ پہلا شوہر آ گیا لیکن اب وہ لوگوں کے بہکانے سے طلاق نہیں دیتا، لڑکی نہایت شریف ہے، ایسی صورت میں یہ عورت کون سے شوہر کی ہے، جو لوگ…

جواب

(۱) دوسرا نکاح صحیح نہیں ہوا (۲) اگر دوسرے شوہر کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا نکاح کسی اور سے ہو چکا نہ اس نے طلاق دی ہے، نہ تفریق شرعی کرائی گئی، نہ شوہر کے انتقال کی تحقیق ہے، تو اس سے جدائی کرا کے لڑکی کی عدت بھی پوری کرائی جائے (۳) یہ عورت پہلے شوہر کی بیوی ہے (۴)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو