الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مفقود کی واپسی نکاح ثانی کے بعد

سوال

زید نے ہندہ کیساتھ نکاح کیا اور باہم رہتے رہے کچھ دنوں کے بعد زید تلاش معاش کیلئے پردیس چلا گیا اور ہندہ اپنے مکان پر بمعہ والدہ زید کے رہتی رہی، زید پردیس جانے کے بعد بالکل لا پتہ ہو گیا خط وکتابت بند کردی، اور خرچہ وغیرہ بھی تقریباً دس گیارہ سال تک بالکل چھوڑ دیا اور بے خبر رہاہندہ نے اپنی مجبوری اور بے بسی برادری میں ظاہر کی اور زید کولا پتہ بتایا برادری نے حکم عقد ثانی کا دیدیا، ہندہ نے عقد ثانی کر لیا، عقد ثانی ہونے کے بعد تقریباً آٹھ سال کے بعد زید کا پتہ معلوم ہوا اور اسکی والدہ زید کے پاس چلی گئی تقریباً…

جواب

جس عورت کا شوہر مفقود اور لاپتہ ہو جائے اس کے لئے شرعی یہ حکم ہے کہ حاکم مسلم باختیار کی عدالت میں مقدمہ پیش کرے اور اس مفقود کے ساتھ اپنا نکاح ثابت کرے اور کہے کہ اتنے زمانہ سے لا پتہ ہے نہ مجھے نفقہ دیکر گیا ہے، نہ کسی کو کفیل بنا کر گیا ہے نہ وہاں سے بھیجتا ہے مجھے نکاح کی سخت ضرورت ہے، اس پر حاکم مسلم با قاعدہ واقعات کی تفتیش کرے اور اس مفقود کو تلاش کرائے جب پوری سعی کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو