زوجہ غائب
سوال
ایک عورت کہتی ہے کہ میرے گذر اوقات کا کوئی ذریعہ نہیں کہ میرا خاوند عرصہ ۹ سال سے چوری کر کے چلا گیا ہے، اور جو میرا زیور ہے وہ بھی لے گیا ہے، اب میں نکاح کرسکتی ہوں یا نہیں؟
جواب
ایسی عورت کو چاہئے کہ مسلمان حاکم کے یہاں مقدمہ پیش کرے کہ فلاں شخص میرا شوہر ہے اتنے زمانہ سے غائب ہے، میرے خرچ کا نہ کسی کوکفیل بنا کر گیا ہے نہ وہاں سے بھیجتا ہے نہ دیکر گیا ہے، میں سخت پریشان ہوں مجھے نکاح ثانی کی ضرورت ہے، حاکم ان سب واقعات کی تحقیق کر کے اس کو تلاش کرائے جب ملنے سے مایوس ہو جائے تو عورت کو حکم کرے کہ چار سال تک انتظار کرتی رہے، اگر اس مدت میں بھی نہ آئے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔