الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زوجہ مفقود کا نکاح ثانی اور بچہ

سوال

ہندہ کے خاوند زید نے برائے طلب روزی جہاز کا سفر کیا تھا، آج تین سال گذر گئے زید کا کچھ پتہ نہیں آیا زندہ ہے، یا مردہ لیکن غالب گمان ہے، کہ زید زندہ نہیں، اور ہندہ نے شدت خوف ابتلاء معاصی وغیرہ کے دو ڈھائی سال انتظار کر کے بدون حکم حاکم گورنمنٹ وبدون حکم پنچائت زوج آخر سے نکاح کیا اور کچھ مہینہ میں ہندہ کے بطن سے ایک بچہ بھی پیدا ہوا اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید شرعاً مفقود ہے یا نہیں، اگر مفقود ہے تو ہندہ کا بدون پنچائت وبدون حکم حاکم فسخ نکاح میں خود مختار ہوکر مدت مذکورہ بالا میں زوج آخر سے نکاح کرنا شرعاً…

جواب

جب کہ زید کا کوئی پتہ نہیں تو وہ مفقود ہے (اى المفقود) غائب لم يدر احى هو ام ميت اودع اللحد اه تنویر ص ۵۰۷/ج ۳/ہندہ کا صورت مسئولہ میں نکاح زوج آخر سے شرعا صحیح نہیں بلکہ فاسد ہے، اور اس نکاح کا فسخ اور مفارقت ومتارکت واجب ہے، اور یہ بچہ شبہۃ العقد یا شبہۃ المحل کی وجہ سے ثابت النسب ہے، مگر زوج ثانی سے میراث کا مستحق نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو