زوجہ مفقود الخبر کے لئے سہولت
سوال
مسئلہ مفقود الخبر میں سخت خلجان ہے،حنفیہ کے نزدیک عورت کو نوے برس یا ایک سو برس تک انتظار کرنا چاہئے کوئی کہتا ہے کہ جب اس کے خاوند کے ہم عمر عموماً مر جاویں تو نکاح کر سکتی ہے، اس پر بھی یہ شرط ہے کہ حاکم شرعی اس کے مرنے کا حکم لگا وے اور عورت اس وقت تک جوان ہو اس مسئلہ کی وجہ سے جو مصیبت عورتوں کو آئے دن بھگتنا پڑتا ہے، کچھ محتاج بیان نہیں، جو شرائط ہیں ان کا پورا ہونا ناممکن ہے، اس سے صاف کہہ دینا اچھا تھا کہ نکاح ہی نہ کرے، اسلام ایک فطری مذہب ہے، اس میں عورت کے جذبات کی رعایت کی گئی ہے، آخر وہ کس طرح اس حقیقت…
جواب
(۲،۱) عورت کو ایسی صورت میں ایک سو بیس یا نوے برس تک انتظار کرنا ضروری نہیں، بلکہ عورت کی سہولت کے لئے مسئلہ مفقود الخبر وخلع وغیرہ کے احکام تفصیل سے رسالہ حیلہ ناجزہ میں اردو میں عام فہم طریق پر لکھ دیئے گئے ہیں جس پر علماء تھانہ بھون علماء دیو بند وعلماء سہارن پور کے متفقہ دستخط ہیں، اس کو منگا کر دیکھئے ہر طرح سے عورت کی تکالیف کے پیش نظر سہولتیں اس میں درج ہیں، وہ رسالہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔