الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدت میں نکاح

سوال

متوفی زید کی بیوی ہندہ نے بعد انتقال زید کے تین مہینہ پانچ دن کے عمرو سے نکاح کر لیا اور بعد نکاح دو تین روز کے عمرو کو یہ معلوم ہوا کہ اس نے عدت ہی کے اندر نکاح کیا۔ بعد معلوم ہو جانے کے بھی عمرو نے ہندہ مذکورہ سے تفریق یا متارکت وفسخ کچھ بھی نہیں کی اور اس طرح دونوں با ہم زندگی بسر کرنے لگے یعنی وطی بھی کرنے لگا اس حالت پر آٹھ مہینے گذرنے کے بعد عمرو نے کسی ملا صاحب کے ذریعہ سے صرف نکاح دہرالیا بعد نکاح اس آٹھ مہینہ کے اندر تفریق متارکت فسخ ان تینوں میں سے کسی ایک کو ایک لحظہ کے لئے بھی اختیار نہ کیا۔

جواب

عدت وفات غیر حاملہ کے لئے چار ماہ دس روز ہے عدت پوری ہونے سے پہلے نکاح ناجائز ہے۔ اگر عمرو کو علم ہو کہ ہندہ کی عدت پوری نہیں ہوئی تو یہ نکاح باطل اور زنا محض ہوا ہے آٹھ ماہ بعد جب دوبارہ نکاح کیا ہے تو وہ صحیح ہے جب پہلا نکاح قطعاً باطل ہوا تھا تو دوبارہ نکاح کے لئے مستقل عدت کی ضرورت نہ تھی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو