الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر نا بالغ زوجہ بالغ / شوہر والی کا بغیر طلاق کے نکاح

سوال

(۱) ایک نکاح بغیر طلاق کا ہوا اور دلہن بھی تخمیناً چار ماہ سے مطلقہ ہوئی ہے۔ آیا یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ (۲) اگر دولہا سے کہا جاتا ہے کہ تمہارا نکاح حرام ہوا تو وہ کہتا ہے کہ سب کے نکاح ناجائز اور میرا جائز ہے اب آیا اس کے کہنے کا کچھ تدارک بھی ہے یا نہیں جب کہ وہ کہنے پر سرکشی کرتا ہے؟ (۳) جو باراتی اس نکاح میں شامل تھے ان کے نکاح میں کچھ فرق آیا یا نہیں جب کہ سمجھتے تھے کہ دلہن مطلقہ بھی نہیں ہے؟ (۴) بعض باراتیوں کو بالکل علم نہیں تھا کہ نکاح ہوا ہے یا نہیں اب اس میں عمداً یا سہواً کا فرق لگایا جائے گا یا نہیں۔

جواب

(۱) کسی دوسرے کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے جب تک پہلا شوہر طلاق نہ دیدے اور مدخولہ ہونے کی صورت میں عدت گذر جائے۔ (۲) حرام کو حلال کہنا سخت گناہ ہے اسی طرح حلال کو حرام کہنا جرم عظیم ہے۔ ایسا کہنے والے کو توبہ کرنا لازم ہے اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کر لینا چاہیئے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو