الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح معتده

سوال

ایک شخص نے اپنی زوجہ بالغہ صحبت کی ہوئی کو تین طلاق بائن دیدی تھی دو حیض گذرنے کے بعد دوسرے ایک مرد نے نکاح کر لیا ہے، یہاں کا عبداللطیف قاری کہتا ہے کہ نکاح صحیح نہیں ہوا۔ اس لئے پھر سات مہینے کے بعد اس کے ساتھ نکاح دہرایا گیا۔ دہرانے کے بعد ۹ مہینے کے اندر اسی سے حاملہ ہوگئی کیا زوج ثانی کا نکاح جائز ہوا یا نہیں اور زوج اول کی عدت کس طرح ادا کرے گی؟

جواب

اگر صریح الفاظ میں تین طلاق دی ہے تو وہ مغلظہ ہوگئی ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذمہ تین حیض عدت گزارنا واجب ہے صرف دو حیض گذرنے پر جو نکاح کر لیا ہے وہ درست نہیں ہوا۔ اگر باوجود مسئلہ جاننے کے یہ نکاح کیا ہے تو یہ زنا ہے۔ اس کی وجہ سے دوبارہ عدت واجب نہیں ہے بلکہ دو حیض پہلے گزر چکے ایک حیض اور گذار نا واجب ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو