الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدت میں نکاح

سوال

ہندہ بیوہ ہو گئی۔ عدت وفات ابھی اسکی ختم نہ ہوئی تھی کہ اس کا نکاح اس کے متوفی شوہر کے بھائی کے ساتھ کر دیا گیا، حالانکہ مسماۃ مذکورہ رضامند نہ تھی۔ اس واسطے وہ تین روز گھر سے بے گھر رہی۔ تیسرے دن اس نے شخص مذکور کو جس کے ساتھ نکاح کر دیا گیا تھا مجبور کیا طلاق دینے پر، چنانچہ اس نے طلاق دیدی سرکاری کاغذ پر بموجب قانون انگریزی طلاق نامہ لکھ دیا۔ اس کے بعد اب مسماۃ ہندہ اسی شخص کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس کا نکاح اس شخص کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

عدت میں نکاح جائز نہیں، نکاح کرنے والا اور نکاح پڑھنے والا اور تمام شرکاء مجلس نیز جو لوگ اس نکاح کے روکنے پر قادر تھے پھر خاموش رہے اور نہیں روکا تو یہ سب کے سب گنہ گار ہوئے سب کو توبہ لازم ہے۔یہ امام اگر توبہ نہ کرے تو اس کو امامت سے علیحدہ کر دیا جائے بشرطیکہ اس سے بہتر امامت کے لائق کوئی دوسرا آدمی موجود ہو۔ نیز اس کی علیحدگی میں کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو