نکاح معتده
سوال
زید وبکر حقیقی بھائی تھے ہندہ اور زبیدہ حقیقی بہن تھیں دونوں کی شادی دونوں بھائیوں کے ساتھ ہوئی یعنی ہندہ کی زید کے ساتھ اور زبیدہ کی بکر کے ساتھ مگر زید عرصہ آٹھ سال کا ہوا کہ فوت ہو گیا ایک لڑکا اور ایک لڑکی چھوڑا اب ہندہ مع اپنے لڑ کا ولڑکی کے بکر اپنے دیور کے ساتھ پرورش پاتی رہی۔ اس کے بعد بکر نے اپنی بیوی زبیدہ کو طلاق دے دیا مگر مطلقہ زبیدہ کو گھر سے نہیں نکالا اور طلاق کے تین چار روز بعد ہندہ اپنی بھاوج ونیز سالی سے نکاح کر لیا بغیر گواہ وشاہد کے قاضی کے سامنے کر لیا صبح کو قاضی نے بکر وہندہ کے نکاح کا…
جواب
(۱) جب اس کو طلاق دے کر تعلق زن وشوئی منقطع کر چکا ہے۔ تو اب اس کو اپنے مکان میں رکھنا نا جائز ہے اس کو علیحدہ کرنا واجب ہے (۲) یہ نکاح نا جائز ہوا ولا يجوز ان يتزوج اخت معتدته سواء كانت العدة من طلاق رجعی او بائن اوثلث او عن نكاح فاسد او عن شبهة اه عالمگیری ص ۲۸۷ ج ۲/جب تک زبیدہ کی عدت پوری نہ ہو جائے اس کی بہن سے بکر کو نکاح کرنا جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔