الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدت میں نکاح

سوال

ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت اس کو امید نہ تھی دوماہ کے بعد ایام عدت میں امید ہوگئی عدت کے بعد عورت نے اپنا نکاح اس مرد سے پڑھا لیا جس سے امید تھی یعنی بچہ پیدا ہونے سے قبل، آیا نکاح درست ہوگا یا نہیں اور بچہ کیسا قرار پائے گا ایام عدت میں ایسا کرنے کی وجہ سے مرد وعورت دونوں کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

عدت وفات ختم ہونے کے بعد اگر نکاح کیا ہے تو وہ صحیح ہے اور نکاح سے کم از کم چھ ماہ گذرنے سے پہلے بچہ ہوا ہے تو وہ اس ناکح سے ثابت النسب نہ ہوگا اور عدت وفات اس صورت میں صحیح قول پر چار ماہ دس روز ہی رہے گی وضع حمل کو عدت نہیں قرار دیا جاوے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو