تبدیل مذہب کے بعد عورت کا دوسرا تیسرا نکاح
سوال
ایک عورت کسی کے ورغلانے سے یایوں ہی کسی خاص مقصد کے لئے عدالت میں جا کر کہتی ہے کہ میں مذہباً عیسائی وغیرہ ہوگئی ہوں اب میری اور میرے خاوند کی موافقت نہیں ہو سکتی تو عدالت نے اس کے خاوند کو بلوایا تو وہ جب پہلی تاریخ پر حاضر عدالت ہوا تو عدالت نے تاریخ ڈالدی تو دوسری تاریخ میں حاضر نہیں ہوا تو عدالت نے عورت کو کہا جا۔
جواب
عدالت میں جا کر عیسائی مذہب اختیار کرنے یا اس کا اقرار کرنے سے مفتی بہ قول پر نکاح فسخ نہیں ہوا۔ لہذا دوسرا اور تیسرا نکاح شرعا نا جائز ہے۔ عورت کے ذمہ واجب ہے کہ اپنے پہلے شوہر کے پاس رہے اس دوسرے اور تیسرے نکاح سے عورت اور اس کی ماں دونوں کو سخت گناہ ہوا اور جن سے نکاح کیا ہے اگر ان کو اس کا علم ہے کہ شوہر اول نے طلاق نہیں دی اور ہمارے لئے یہ عورت حرام ہے تو وہ بھی سخت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔