شرط کے خلاف کرنے کا نکاح پر اثر
سوال
ایک شخص اپنی لڑکی کا نکاح کسی لڑکے کے ساتھ اس شرط پر کرتا ہے کہ اس لڑکے کو اس کے گھر پر ہی رہنا ہوگا۔ لڑکے نے شرط منظور کر لی اور نکاح ہو گیا۔ اب یہ باپ پانچ ماہ کے بعد اس لڑکے سے کہتا ہے کہ تو تو میرے گھر نہیں رہتا اور لڑکا اس کے گھر پر رہتا ہے مگر اس کے کہیں بھی جانے کو یہ وہی کہتا ہے کہ تو تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور اس بات کو عذر بنا کر اس نے اپنی لڑکی کو طلاق مان کر دوسری جگہ نکاح کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ آپ شریعت مطہرہ کی روشنی میں یہ تحریر کیجئے کہ یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صرف اتنی بات سے طلاق نہیں ہوئی پہلا نکاح ہی باقی ہے دوسرے نکاح کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر دوسرا نکاح کر دیگا تو وہ شرعی نکاح نہیں ہوگا بلکہ نکاح کے نام پر حرامکاری ہوگی جس کا وبال سخت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔