نکاح شغار
سوال
بختاور نامی ایک بیوہ عورت سے ابن نامی ایک شخص نے اس شرط پر نکاح کیا کہ بختاور کے لڑکے نابالغ مسمی نور محمد کو کوئی بازو لگادیا جائے گا چنانچہ ابن نے اس شرط کو منظور کر کے اپنی بھانجی مسماۃ واجدل نابالغہ کے والد مسمی ولی محمد سے کہہ کر نور محمد کا نکاح واجدل نابالغہ سے بولایت والدش ولی محمد پڑھوا دیا اور اپنا نکاح بختاور مذکورہ سے پڑھوالیا۔
جواب
(۱) مسماۃ واجدل کا پہلا نکاح نور محمد کے ساتھ شرعا صحیح ومعتبر ہو گیا رجسٹر میں اندراج شرعاً ضروری نہیں جو لوگ مجلس نکاح میں موجود تھے ان کی گواہی کافی ہے۔ تنبیہ: عوض میں نکاح کرنے کا مطلب اگر یہ ہے کہ اس نکاح میں مہر مقرر نہیں ہوا بلکہ بجائے مہر کے یہ نکاح کردیا گیا تو یہ شرط شرعاً ناجائز ہے لیکن ایسی شرط سے نکاح ناجائز نہیں ہوتا بلکہ یہ شرط غیر معتبر ہوتی ہے اور نکاح درست ہو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔