الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اغوا کے بعد نکاح اور متعدد مسائل

سوال

زید بکر کی لڑکی اغوا کر لیتا ہے پھر کچھ عرصہ بعد یوں زید وبکر میں صلح ہوتی ہے کہ زید وبکر کی لڑکی کا نکاح آپس میں باندھا جاتا ہے زید کا بھائی اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح بکر کے چھوٹے لڑکے کے ساتھ باندھ دیتا ہے اس کے علاوہ سات سو روپیہ نقد بھی بکر کے حوالہ کئے جاتے ہیں کیا یہ نکاح درست ہے پھر زید کے بھائی کی لڑکی جب جوان ہوتی ہے تو بکر چاہتا ہے که فسخ نکاح کر لیا جائے تو زید اور اس کا بھائی لڑکی سے دعوی کرواکر عدالت سے مذکورہ لڑکی کا نکاح فسخ کرا لیتے ہیں۔

جواب

زید کا بکر کی لڑکی کو اغوا کرنا تو حرام ہوا۔ لیکن اس کے بعد نکاح کر لیا تو صحیح ہو گیا۔ زید کے بھائی نے اپنی چھوٹی لڑکی کا نکاح جو بکر کے چھوٹے لڑکے کے ساتھ کر دیا ہے وہ بھی صحیح ہے لیکن جو سات سو روپیہ نقد دئیے ہیں ان کی واپسی لازم ہے۔ کیونکہ یہ خالص رشوت ہے۔ اخذ اهل المرأة شيئاً عند التسليم فللزوج ان يسترده لانه رشوة. ردالمحتار ص ۵۶۰ ج ۲/۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو