نکاح کے وقت کلمہ پڑھانا
سوال
اس طرف امام صاحب بوقت نکاح دلہا ودلہن کو ایجاب وقبول وکلمہ وغیرہ پڑھاتے ہیں دلہن بالغہ ہو یا نابالغہ بعض آدمی اس پر معترض ہوئے کہ بالغہ سے کلام نہ کرنا چاہئے امام صاحب نے کہا اس میں کیا نقصان ہے؟ دریافت طلب یہ امر ہے کہ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے آیا ایجاب وقبول وکلمہ وغیرہ دونوں کو پڑھانا چاہئے یا صرف دلہا کو اگر صرف دلہا کو تو دلہن کو پڑھانا ثواب ہے یا گناہ؟ مع دلیل تحریر فرمائیں۔
جواب
بوقت عقد نکاح کلمہ پڑھانا احادیث اور صحابہ اور مجتہدین سے منقول نہیں البتہ اگر دلہا و دلہن کے متعلق علم ہو کہ ان کے عقائد اچھے نہیں خلاف شرع ہیں تو جس کے عقائد خلاف شرع ہوں ان کو تجدید ایمان کے لئے کلمہ پڑھانا ضروری ہے اور جس کے عقائد موافق شرع ہوں اس کو ضروری نہیں ہر جگہ اس کا التزام کرنا غلطی ہے، خاص کر جب کہ دولہن کو کلمہ پڑھانے میں فتنہ کا اندیشہ ہو اس کی آواز کی وجہ سے یا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔