الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضمیمه استفتاء ماقبل

سوال

نقل فتویٰ مولوی صاحب جو جواز نکاح کے لیا گیا یعنی وہ مولوی جس نے نکاح پر نکاح باندھا تو یہی فتویٰ لیا گیا ہے کہ مولوی صاحب کا نکاح درست ہے۔ اس کو دیکھ کر جواب دیا جائے۔ ایک شخص نے ایک عورت کو اغواء کر لیا پھر اغواء کرنے والے کے بھائی نے عورت کے ساتھ فساد کرنے کے لئے سات سو روپیہ نقد دیا عورت کے بھائی صغیر نے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح کر دیا پس بموجب قانون سرکاری لڑکی کا نکاح جو پہلے ہوا تھا عدالت میں فسخ کرایا گیا ایک مولوی صاحب نے اس لڑکی کا نکاح اور شخص کے ساتھ پڑھا دیا۔

جواب

فتح القدیر میں ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک نکاح صغیرہ کا کرنا نا جائز ہے منعقد نہیں ہوتا، ابن شبرمہ کا یہی مذہب ہے بعض فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اب وجد کو اختیار ہے کہ صغیرہ کا نکاح کردے اور بعد بلوغ اس کو فسخ کرنا درست نہیں بغیر اب وجد کا نکاح جائز نہیں، شافعی کا یہی مذہب ہے، ابوحنیفہ اور امام محمد کا یہ مذہب ہے کہ اب وجد کو بھی نکاح جائز ہے اور صغیرہ کو بعد بلوغ کے خیار فسخ حاصل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو