الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مجلس نکاح میں کلمہ پڑھوانا اور زوجین سے ایجاب وقبول کرانا

سوال

مشرقی یوپی کے بعض مقامات پر دلہا اور دلہن کو اکٹھا بٹھا کر نکاح پڑھواتے ہیں۔ دلہا سے تین مرتبہ ایجاب وقبول کرواتے ہیں اور دلہن سے بھی اسی طرح ایجاب وقبول کراتے ہیں۔ اگر دلہن سے ایجاب وقبول نہ کرائیں تو کہتے ہیں کہ نکاح نہیں ہوا لوگ کہتے ہیں جس طرح طلاق تین دفعہ ہے اسی طرح نکاح میں ایجاب وقبول بھی تین دفعہ ہے اور نکاح سے پہلے کلمہ پڑھانا ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اس طریقے کی پابندی کرنا کوئی شرعی حکم نہیں۔ مجلس عقد میں دلہن موجود نہ ہو اس کی طرف سے اس کا کوئی ولی یا وکیل قاضی وغیره ایجاب کر لے تب بھی درست ہے۔ ایک دفعہ بھی ایجاب وقبول کافی ہے۔ طلاق کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک دفعہ دینے سے بھی طلاق ہو جاتی ہے، اس کا اور حکم ہے، تین دفعہ دینے سے بھی ہو جاتی ہے اس کا اور حکم ہے، نکاح کی یہ قسمیں نہیں۔ پس طلاق پر اس کو قیاس کرنا غلط ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو