فاحشہ عورت کی لڑکی سے نکاح
سوال
(۱) ایک مسلم فاحشہ عورت ہے، اس کی دولڑکیاں ہیں، ان کے نام عمر النساء اور مہر النساء ہیں۔ ان لڑکیوں کا شرعی نقطہ نظر سے اسلام میں کیا درجہ ہے؟ کیا ان سے نکاح کر سکتے ہیں؟ کیونکہ میرا ایک دوست ہے جو اس کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ میرے خیال سے اسلام میں حرام خوری جائز نہیں ہے اور حرام چیز کو قبول نہیں کر سکتے۔ اس لئے اس لڑکی سے شادی نہیں کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہے، اس کی رگوں میں حرام خون دوڑ رہا ہے۔ اس لحاظ سے اس سے شرعی اعتبار سے نکاح نہیں کر سکتے۔
جواب
(۱) جو لڑ کی مسلمان ہو خواہ پیدائشی مسلمان ہو یا اسلام قبول کرے، اس کی ماں کا نکاح ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، بہر صورت اس کا نکاح مسلمان سے درست ہے۔ باپ یا ماں نے اگر کفر کیا یا حرام کام کیا تو اس کی وجہ سے لڑکی کے نکاح کو نا جائز وحرام نہیں کہا جائے گا۔ (۲) ماں باپ کی اس معصیت کی وجہ سے لڑکی کو نکاح سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ لڑکی کا نکاح درست ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔