مشتبہ الخلقت سے نکاح
سوال
ایک شخص کا نکاح ہوا خلوت کے بعد معلوم ہوا کہ عورت کا مقامِ خاص تنگ ہے، نیز صرف سوراخ کی طرح معلوم ہوتا ہے، اور سینہ بھی تھوڑا سا ابھرا ہوا ہے باوجود یکہ عورت جوان تندرست ہے، تندرستی کے اعتبار سے سینہ نہیں ہے، اور ماہواری کی طرح خون بھی آتا ہے بلا تخصیص وتعین ایام، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صفات والے کو مؤنث شمار کریں یا خنثی شمار کریں، اگر خنثی ہے تو نکاح درست ہوا یا نہیں، اگر نکاح درست نہیں ہوا، تو خلوت صحیحہ کی وجہ سے شوہر پر کچھ لازم ہوگا یا نہیں؟
جواب
خنثی تو وہ ہے جس میں مرد وعورت دونوں کی علامت پائی جائے اور یہاں مرد کی کوئی علامت آپ نے نہیں لکھی عورت ہونے کی علامت ظاہر ہے صرف یہ کہ اس میں کچھ نقصان ہے اسلئے نہ تو اس کو مرد کہا جائے گا، نہ خنثی بلکہ وہ عورت ہے اس سے نکاح درست ہو گیا اگر بذریعہ علاج اصلاح ہو سکتی ہوتو علاج کرالیا جائے، آپریشن سے کشادگی ہو جائیگی ممکن ہے کہ سینہ میں بھی فرق آجائے ورنہ شوہر کو طلاق کا حق تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔