باپ اور بھائی کے ڈر سے نکاح سے منکر ہو جانا
سوال
خلاصۂ سوال یہ ہے کہ مسمی عبدالحمید اور مسماۃ وحیداً اپنا نکاح اپنی مرضی سے از خود کرنا چاہتے تھے۔ ایک روز مسماۃ وحیداً نے اپنے والد کے مکان پر روبرو ایک مسلمان بالغ مرد اور دو مسلمان بالغ عورتوں کے عبدالحمید کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے اپنا نکاح تیرے ساتھ کیا۔ عبدالحمید نے جواب میں کہا کہ میں نے قبول کیا۔ یہ سوال وجواب ایک ہی جگہ ہوئے جس کو گواہوں نے سنا۔ وحیداً نے اپنے ہاتھوں سے شکر گھر میں سے لیکر تقسیم کر دی کہ یہ میرے نکاح کی شیرینی ہے جس کو گواہوں نے کھایا اور عدالت سے بیان حلفی تصدیق کرالی۔
جواب
ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے جب نکاح کا ایجاب وقبول ہواہے اور یہ نکاح کفوء میں ہوا تو وہ شرعاً معتبر اور لازم ہو گیا۔ لڑکی کے والدین یا کوئی اور اس کو غیر معتبر نہیں کہہ سکتے۔ اب لڑکی کا انکار بھی شرعاً معتبر نہیں، اس کے بعد مسماۃ وحیداً کا نکاح کسی اور شخص سے نہیں ہوسکتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔