الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق کی نیت سے نکاح

سوال

ایک شخص نکاح اس نیت سے کرتا ہے کہ نفسانی خواہش ایک آدھ دن میں پورا کر کے طلاق دیدوں گا اور ایسے نکاح کرتے رہے تو کیا ایسی نیت کرنے والے کا یہ نکاح درست ہو گا یا نکاح متعہ جیسا ہوگا؟ اگر جائز ہے تو گنہگار ہوگا یا نہیں؟

جواب

ضابطہ میں تو نکاح منعقد ہو جائے گا مگر نیت صحیح نہ ہونے کی وجہ سے مستحق وعید ہوگا۔ بلا وجہ طلاق دینا خود مبغوض ہے۔ البتہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دیدی۔ اب وہ پریشان ہے، اس کا گھر ویران ہے۔ اس کی پریشانی اور ویرانی کو دور کرنے کے لئے کوئی شخص اس عورت سے نکاح کرلے اور ایک دورات رکھ کر طلاق دیدے تو انشاء اللہ ماجور ہوگا بشرطیکہ طلاق کی شرط نہ لگائی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو