مہر وسعت سے زیادہ ہوتب بھی نکاح درست ہے
سوال
زید کی تنخواہ ایک سو تیس روپے ہے۔ شادی سے قبل مہر پندرہ سوروپے طے ہوا تھا۔ لیکن عین موقع پر خسر نے چار ہزار روپیہ پر اصرار کیا اور زید نے چار ہزار دو اشرفی دین مہر قبول کر لیا۔ اب زید کو شک ہے کہ یہ تو وسعت سے زیادہ ہو گئے۔ کیا شرع کے مطابق یہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
نکاح تو صحیح ہو گیا اب یا تو مہر کے ادا کرنے کی تدبیر کرے یا معاف کرائے وتجب العشرة ان سماها او دونها ويجب الاكثر منها ان سمى الاكثر اى بالغاً ما بلغ فالتقدير بالعشرة لمنع النقصان (درمختار شامی ص ۳۳۰ ج ۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔