دس سالہ لڑکی کا نکاح تیس سالہ آدمی کے ساتھ
سوال
اگر قاضی صاحب دس ۱۰ر سالہ لڑکی کا نکاح تیس سالہ آدمی کے ساتھ پڑھا دیں تو کیا یہ نکاح صحیح ہے؟ اور قاضی صاحب کا یہ عمل صحیح ہوگا یا نہیں؟
جواب
اگر ولی کی اجازت سے پڑھایا ہے تو صحیح ہے۔ ولی کو خود سوچنا چاہئے کہ یہ مناسب ہے یا نہیں؟ اگر لڑکی بالغ ہو تو خود اس کی رائے بھی معتبر ہے جب کہ نکاح کفو میں ہو اس سے نیچے اتر کر نہ ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔