حیض نہ آنے اور ثدیین اُبھرے ہوئے نہ ہونے کی حالت میں نکاح
سوال
زید کا نکاح ہندہ سے ہوا تھا۔ خلوت صحیحہ کا بھی ثبوت ہے،مگر چار سال کے بعد ڈاکٹروں نے یہ فیصلہ کر دیا کہ ہندہ مرد کے قابل نہیں ہے، نہ حیض آتا ہے نہ ثدیین اُبھرے ہوئے ہیں۔ دریافت طلب یہ ہے کہ زید کا نکاح ہندہ سے ہوا یا نہیں؟ بصورت نکاح مہر کالزوم ہوا یا نہیں؟
جواب
ثدیین کے نہ اُبھرنے اور حیض نہ آنے کے باوجود اگر اس کے محل جماع ہے تو زید اس کے پاس جا کر ہمبستری کر سکتا ہے اور نکاح بھی صحیح ہے۔ جواب صحیح ہے۔ چونکہ خلوت ہو چکی ہے اس لئے مہر بھی پورا لازم ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔