رجسٹر میں ولدیت بدلنے سے نکاح پر اثر
سوال
ایک شادی کے رجسٹر میں دلہا کی ولدیت میں لڑکے کے ماموں کا نام لکھا گیا اس صورت میں یہ شادی درست ہوگی یا نہیں؟ چونکہ لڑکا بچپن میں اپنے ماموں کی تربیت میں تھا۔
جواب
جب کہ لڑکی دولہا کے یہاں جاتی ہے اور گواہ اس کو دیکھ رہے ہیں، تو انعقاد نکاح کے لئے اتنی بات کافی ہے رجسٹر میں بالکل ہی اندراج نہ ہو تب بھی نکاح صحیح ہے۔ والد کے نام کی جگہ ماموں کا نام لکھ دیا گیا ہو کیونکہ وہ ماموں کی تربیت میں تھا تب بھی نکاح میں خرابی نہیں آئی۔ والد کے نام کی ضرورت رفع جہالت کے لئے ہوتی ہے جو حاضر میں موجود نہیں۔ کذافی ردالمحتار ۲۷۲ ج ۲ نعمانیة۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔