ختنہ سے پہلے نکاح
سوال
مسمی گامی پسر جمہ کا نکاح مسماۃ بیان دختر سے ہوا بوقت نکاح لڑکے کی عمر چار سال تھی اور وہ بغیر ختنہ کے تھا اور مسماۃ کی عمر ایک سال تھی دونوں میں ایجاب وقبول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے صرف طرفین سے والدین کی رضامندی سے نکاح ہوا تھا جب طرفین بالغ ہوئے تو بعد از بلوغ ازدواجی زندگی خوشی سے گزارنی شروع کر دی اس وقت لڑکے کی عمر ۲۶ سال ہے اور لڑکی کی عمر ۲۲ سال ہے۔ اب بعض کہتے ہیں کہ نکاح چونکہ بدون ختنہ کے ہوا ہے لہذا یہ سنت کے خلاف ہے اس لئے ان دونوں کا نکاح درست نہیں ہے۔
جواب
چار سال کی عمر میں والد نے جو نکاح کر دیا وہ بلاشبہ صحیح ہو گیا۔ ختنہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو غلط کہنا اور شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی کرا نا صحیح نہیں ان کو آپس میں ملنے سے ہرگز نہ روکیں ختنہ سنت ہے اور اس کی تاکید ہے مگر اس کی وجہ سے نکاح ناجائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔