تین برس کی بچی کا نکاح
سوال
زید اور عمر میں دنیاوی معاملات میں جھگڑا وفساد ہو گیا۔ اس فساد میں زید کے ہاتھ سے عمر مارا گیا۔ بعدہ اس میں اتفاق کرنے کی غرض سے زید کے برادر سے اپنی لڑکی نابالغہ جس کی عمر تین سال یا چار سال ہوگی عمر مقتول کے برادر خالد سے نکاح کرایا۔ اس واقعہ کو ۱۳ سال کا عرصہ گذر گیا ہے اور لڑکی اپنے والدین کے یہاں موجود ہے۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ اس نابالغہ لڑکی کا نکاح خالد مذکور کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اب لڑکی کو بعد بلوغت فسخ نکاح کی اجازت ہے یا نہیں؟
جواب
یہ نکاح لازم ہو گیا اس کو خیار بلوغ کے ذریعہ بھی فسخ کرانا درست نہیں۔ البتہ خالد طلاق دیدے تب دوسری جگہ نکاح درست ہوگا۔ اذا زوجهما اى الصغير والصغيرة الاب والجد فانه لاخيار لهما بعد بلوغهما بحرص ۱۴۰ رج ۳.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔