الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کے بعد معلوم ہوا کہ منکوحہ کا دماغی توازن صحیح نہیں

سوال

زید کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ گھریلو پریشانیاں بڑھ گئیں۔ جس کے باعث عقد ثانی کی ضرورت پیش آئی، جس کے بارے میں زید نے اعزہ سے تذکرہ کیا۔ ان حضرات نے چند دنوں میں کوشش کر کے کافی دوری پر ایک رشتہ مطلقہ عورت تلاش کیا۔ صاحب رشتہ حضرات سے زید بالکل ناواقف و نا آشنا تھا۔اعزہ خاص نے اس رشتہ پر ایسی خوشی ظاہر کی کہ جس سے زید اس رشتہ کے جوڑنے پر آمادہ ہو گیا۔ باوجود یکہ پھر بھی دور دراز ہونے کی وجہ سے زید نے اپنے ان ہمدرد اعزہ سے کہا کہ بھائی سارے معاملات اور حالات کو بخوبی معلوم کر لیا جائے۔

جواب

اس بیان میں کوئی ایسی بات مذکور نہیں جس کی وجہ سے نکاح کو غیر صحیح کہا جائے۔ زید کو چاہئے کہ خوش اخلاقی اور نرمی سے آہستہ آہستہ اصلاح کرتا رہے۔ اگر حالات ایسے ہوں کہ نباہ دشوار ہو اور حقوق زوجیت ادا نہ ہو سکیں تو اس کو طلاق دیکر آزاد کر دینے میں مضائقہ نہیں۔ اگر وہ اتنی سمجھ رکھتی ہے کہ مہر کواور مہر کی معافی کو سمجھتی ہے اور وہ مہر معاف کر دے تو مہر معاف بھی ہو سکتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو