جو عورت ہندو کے یہاں ایک سال رہی اس کا نکاح
سوال
ایک عورت جو کہ صوبہ بہار کی رہنے والی ہے، اس کو دھوکہ سے ایک ہندو کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ عورت کو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہندو ہے جہاں مجھے فروخت کیا گیا، وہ اپنا ایمان بچانے کے لئے مسلمانوں سے ملتی رہی اور حد درجہ کوشش کرتی رہی کہ کسی صورت سے ایمان بچا رہے لیکن کسی مسلمان نے اس عورت کی مدد نہیں کی۔ اس جستجو میں وہ عورت اس ہندو کے یہاں ایک سال رہی یہ عورت کا حلفیہ بیان ہے، اس کے بعد وہ عورت ایک مسلمان کے ساتھ ہو گئی اور حلفیہ یہ کہتی ہے کہ میرا کوئی نکاح نہیں ہوا۔
جواب
اگر وہ عورت کہتی ہے کہ ہندؤوں کے یہاں بیچنے سے پہلے وہ کسی مسلمان کے نکاح میں یا عدت میں نہیں تھی اور غالب گمان یہ ہے کہ وہ اس بات میں سچی ہے تو اس سے نکاح کرنا درست ہے۔ ایک آزاد عورت کو فروخت کرنا درست نہیں۔ اس سے وہ مملوکہ نہیں بن جاتی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔