الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکے کے گھر جا کر نکاح

سوال

ایک شخص نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک زمنید ارلڑکے کے ساتھ اس کے گھر جا کر کر دیا۔ جائز شرائط کے ساتھ ہوا کہ وہاں لڑکے کے والدین اور لڑکا اور لڑکی کے والدین ورلڑکی اور مولوی صاحب جنھوں نے نکاح پڑھایا۔ لڑکے کے گھر جانے کی ضرورت یوں پڑی کہ برادری والے دوسری جگہ شادی کرانے پر بضد تھے، تو کیا یہ نکاح درست ہو گیا؟ برادری والے دوبارہ نکاح کو کہتے ہیں۔

جواب

جب لڑکا اور لڑکی اور دونوں کے والدین اور گواہ موجود تھے اور نکاح کا ایجاب وقبول سب کی رضامندی سے شریعت کے مطابق ہوا ہے،اگر چہ کسی کے مکان میں ہوا ہے تو بلا شبہ وہ شرعا صحیح اور معتبر ہو گیا۔ برادری کا یہ کہنا کہ نکاح (ہماری سب کی موجودگی میں ہماری منشاء کے مطابق ہو) دوبارہ کیا جائے غلط اور بلا وجہ شرعی تنگ کرنا اور لڑکی کے والد کو مجبور کرنا کہ جہاں ہم کہیں وہاں نکاح کر ظلم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو