الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سابقہ مطلقہ سے بضرورت دوبارہ نکاح مگر والدین ناراض ہیں

سوال

تیرہ ۱۳ار سال قبل میں نے اپنے بڑے والد کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ دو ۲ سال تک زندگی بہت خوشگوار گذری، مگر دو سال بعد ہی خاندانی نا اتفاقی کی بناء پر طلاق دینی پڑی۔ طلاق کے وقت وہ میرے دوسرے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ اب وہ دونوں بچوں کو اپنے ہی پاس رکھ کر زندگی بسر کرنے لگی۔ اس دوران میں نے دوسری شادی کر لی۔ اس کے والدین نے بھی اس کی شادی دوسری جگہ پر کر دی، اسے اپنے بچوں کی فکر دامن گیر ہوئی

جواب

جب کہ اس غریب کا دوسرے شوہر سے بھی تعلق ختم ہو گیا اور وہ بے سہارا ہوگئی اور آپ کے ساتھ نباہ ہوسکتا ہے۔ نیز دونوں کے حقوق میں آپ برابری کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ بھی توقع ہے کہ اس سے نکاح ہونے پر خاندانی دشمنی ختم ہوکر میل ملاپ کی صورت پیدا ہو جائے گی تو آپ اس سے دوبارہ نکاح کرلیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو