نکاح کے بعد ملازم چمار کے ساتھ بیوی بھاگ گئی
سوال
(۱) زید کا نکاح اس کے ماموں کی لڑکی سے پچھلے سال ہوا تھا، رخصتی نہیں ہوئی تھی یہ طے ہوا تھا کہ رخصتی اگلے سال ہوگی۔ نکاح کے نو یا دس ماہ کے بعد لڑکی اپنے ایک ملازم چمار کے ساتھ بھاگ گئی یاوہ بھگا لے گیا۔ بعد تلاش کے چار دن بعد لڑکی بہرائچ میں اس نوکر کے ساتھ ملی۔ لڑکی کے باپ اس کو اپنے گھر لائے اور زید کو بلا کر روپیہ پیسہ سامان کا لالچ دیکر لڑکی کو زید کے ساتھ رخصت کر دیا۔ زید کے والدین کو ان واقعات کا علم ہو گیا تھا، تو جب زید اپنی بیوی کو لیکر اپنے گھر آیا تو والدین نے مکان سے نکالدیا۔
جواب
(۱) ضابطہ میں بالغ لڑکے اور اس کی بیوی کا نفقہ والد کے ذمہ نہیں ہے جبکہ لڑکا محتاج نہ ہو خود کماتا ہو، اس لحاظ سے ان کو نکال دینا جرم نہیں۔ نیز اس کو چاہئے تھا کہ جب اس کا نکاح اس کے والد نے کیا تھا تو رخصتی بھی ان کے مشورہ وسرپرستی میں کر کے لاتا۔ اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کی تنبیہ کے لئے نکال دینا بھی جرم نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔