الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکی نے بھاگ کر لڑکے کے ساتھ نکاح کر لیا

سوال

ایک گاؤں کا لڑکا دوسرے گاؤں کے ایک بوڑھے اور بڑھیا کے پاس رہنے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد اس بوڑھے کا انتقال ہو گیا۔ وہ لڑکا اب تک اس بڑھیا کے پاس ہے۔ اس بڑھیا کی لڑکی کی ایک بالغ لڑکی ہے اس لڑکی کے والدین نے لڑکے سے کہا تم فکر نہ کرو تمہاری شادی ہم اپنی لڑکی سے کر دیں گے۔ لیکن دو چار ماہ انتظار کرنا ہوگا۔ وہ لڑکا کہنے لگا کہ جب شادی کرنی ہے تو اسی ماہ میں کر دیجئے۔

جواب

لڑکی کے والدین نے سخت غلطی کی کہ بات چیت طے کر لینے کے باوجود اپنے جھگڑے کی وجہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا اور لڑکی کے توجہ دلانے سے بھی آمادہ نہیں ہوئے۔ اس غلطی کا خمیازہ اس طرح بھگتنا پڑا۔ اناللہ الخ۔ لڑکی اور لڑکے نے بھاگ کر بہت نالائقی کا ثبوت دیا کہ خاندان کی عزت کو داغ لگایا، خلاف شرع کام کر کے گنہگار ہوئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو