نابالغ بچی کا ایجاب وقبول بذریعہ والد نکاح صحیح
سوال
(۱) میں نے اپنے چھوٹے کمسن بچے کے لئے ایک چھوٹی لڑکی (جس کی عمر لگ بھگ تین سال تھی) کا رشتہ طلب کیا۔ تو لڑکی کے دادا نے لڑکی کے والد کی موجودگی میں میرے لڑکے کے لئے اس لڑکی کا رشتہ منظور کر لیا۔ اس امر کا گواہ ماسوالڑکی کے والد، ماں اور میری بیوی کے اور کوئی نہ تھا۔ یہ ایجاب اور قبول صحیح ہے یا نہیں؟ اور یہ گواہی معتبر ہے یا نہیں؟ نیز یہ لڑکی بعد بلوغت اس لڑکے پر راضی ہے۔ (۲)
جواب
(۱) رشتہ کرنا در حقیقت نکاح نہیں وعدہ نکاح ہے، اس کے لئے گواہی کی ضرورت نہیں۔ وعدہ پورا کرنا چاہئے جب تک کوئی مانع قوی نہ ہو۔ (۲) اگر لڑکی اغواء کے وقت نابالغ تھی تو اس کا ایجاب وقبول شرعا معتبر نہیں، بلکہ وہ نکاح لڑکی کے والد کی اجازت پر موقوف ہے۔ اگر اس نے اس کو نامنظور کر دیا تھا تو وہ جب ہی ختم ہو گیا تھا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔