نکاح صحیح
سوال
زید کہتا ہے کہ سوال (۱) و(۲) میں رو برو گواہان دے کر یعنی دختر بکر کو ونیز اس کی کفالت کو تین مرتبہ قبول کیا ہے اور دختر بکر نے بھی ہر دو سوال کے اندر زید کی زوجیت رو بروگواہان قبول کی ہے ورو بروبکر کے زید کہتا ہے کہ میں نے دختر بکر کے نفس کو جیسا کہ نکاح کے اندر قبول کرتے ہیں تین مرتبہ ہر دو سوال میں روبرو گواہان قبول کیا ہے اور دختر بکر نے بھی رو برو گواہان سوال (۱) و(۲) میں زید کی زوجیت میں جانا قبول کیا ہے اور زوجیت میں رہنا قبول کیا ہے۔ (۲)
جواب
ایک مسلمان مرد اور دو عورت کے سامنے اگر نکاح کا ایجاب وقبول کیا جائے تو شرعاً نکاح صحیح ہو جاتا ہے اور ان کی گواہی معتبر ہوتی ہے چودہ سالہ لڑکی اگر بالغہ ہو تو اس کی گواہی بھی شرعاً نکاح میں معتبر ہے لڑکی جب بالغہ ہو تو اس کا نکاح ولی کی اجازت پر موقوف نہیں رہتا اور ولی کو بغیر اس کی مرضی کے جبراً نکاح کر دینے کا حق نہیں بلکہ وہ اپنے نکاح میں خود مختار ہے اپنی مرضی سے اپنی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔