الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مزارعت میں مخصوص حصہ کی شرط لگانا

سوال

زید کی ایک زمین ہے، جس میں اندازہ لگایا گیا کہ اس سے ہر سال بیس من دھان پیدا ہوتا ہے، اور گھاس سو بیڑا، اب زید اس زمین کے اندر خود کھیتی نہ کر سکا، بلکہ کسی مجبوری کی وجہ سے اس نے عمر کو کہا کہ تو اس زمین میں کھیتی کر کے مجھ کو صرف اس کی پیداوار میں سے ہر سال آٹھ من دھان اور چالیس بیڑا گھاس دیدینا، اور باقی جو پیدا وار ہو وہ تمام تیرا ہوگا، اب آپ فرمائیں کہ اس شرط پر زمین دینا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

اس طرح معاملہ کرنا جائز نہیں، لیکن اگر یہ قید نہ لگائے کہ اس کی پیداوار میں سے دیدینا، بلکہ مطلقاً آٹھ من دھان اور چالیس بیڑا گھاس پر معاملہ کیا گیا، چاہے وہ بازار سے خرید کر ہو یا کسی اور طرح تو درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو