نصف اور کل پیداوار کی شرط پر دینے سے مزارعت کا حکم
سوال
(۱) اگر عمر نے زید کو کچھ اراضی اس شرط پر دی کہ جو اس کی پیداوار ہوگی، نصف میرا ہوگا، اور نصف تیرا، اور اس کے علاوہ کچھ اراضی اس شرط پر دی کہ جو اس کی پیداوار ہوگی، وہ تمام میں ہی لونگا، کیا یہ نا جائز ہے یا جائز؟ (۲) عمر نے زید کو اراضی سالانہ روپیہ مقرر کر کے کاشت پر دی، مگر وقت مقررہ پر زید نے روپیہ ادا نہیں کیا، یا تو زید نے اپنی ضروریات میں صرف کر لیا، یا فصل کی کمی ہوگئی، اور موجودہ جو قانون ہیں، اس کے ماتحت عمر روپیہ وصول نہیں کر سکتا فرمائیے شریعت کا کیا حکم ہے کہ زید روپیہ ادا کرے کہ نہیں؟
جواب
نصف نصف کی شرط جائز ہے اور اس شرط پر کہ جو اس کی پیداوار ہوگی وہ تمام میں ہی لونگا، معاملہ صحیح نہیں آخر جو زید کاشت کریگا ! وہ کس لئے یا اس کو پیداوار میں سے کچھ ملنا چاہئے یا اسکو عمل کاشت کی اجرت دیجائے، البتہ اگر زید اپنی زمین کے ساتھ اس کی زمین بھی کاشت کر دے، اور اس پر احسان کر دے، تو اس میں مضائقہ نہیں، لیکن اس پر کوئی جبر نہیں کیا جاسکتا۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔