مزارعت کی صورتیں
سوال
کیا فرماتے ہیں، علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص کھیتی کا کاروبار کرتا ہے، اور اپنی مصالح کی خاطر خاص کر اس وجہ سے کہ خود تنہا کھیتی کا کاروبار کر ہی نہیں سکتا کسی مددگار ساتھی کی تلاش کرتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کو بارہ ماہ تک کیلئے مقرر کرلے، تاکہ کام میں تشتت اور وقت پر پریشانی نہ ہو اس کی کئی صورتیں مروج ہیں، ایک یہ کہ کسی شخص کو اپنی کوئی ضرورت پیش آئی، تو وہ کسی کھیتی کرنیوالے سے دوسو چار سو روپے قرض لے کر اپنی ضرورت پوری کرتا ہے، اور وہ شخص مقروض اس کھیتی والے قرض خواہ کے ساتھ یہ معاہدہ…
جواب
پہلی دونوں صورتیں چونکہ قرض کے دباؤ میں کی جاتی ہیں، اور مقروض کو اپنے قرض سے نفع ہوتا ہے، کہ مزدور کم اجرت پر پابندی کے ساتھ مل جاتا ہے، خواہ مزدور از خود راضی ہو جائے، خواہ مقروض دباؤ سے اسے راضی کرے اس لئے ممنوع ہیں ”کل قرض جر نفعاً فهو حرام الخ“ شامی ج ۴/ ص ۴۷۱۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔