الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خوف دشمن سے جو مال چھوڑ کر چلا جائے اس کا حکم

سوال

وہ مال کہ کوئی شخص دشمن کے مقابلہ میں گیا بوجہ خوف دشمن مال چھوڑ کر چلا آیا اتفاقا دشمن بہت دور ہے، اور وہاں پر کوئی نہیں فقط وہاں کے باشندے ہیں، مال مذکور کو وہاں کے باشندے تصرف کر سکتے ہیں، یا نہیں لڑنے والے دونوں فرقے کافر ہیں، مال مذکور کا کیا حکم ہے، اس کو مال فئے کہیں گے، یا مال غنیمت یا مال زائد؟

جواب

وہاں کے باشندہ کو اس مال میں تصرف کا حق حاصل نہیں، اور اس مال کو مال فئے اور غنیمت نہیں کہہ سکتے، اگر اس کو مسلمان اٹھا لیں گے، تو وہ ان کی ضمان میں آ جائے گا، اور اس کا اصل مالک کو پہنچانا ضروری ہوگا

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو