صاحب حق کی طرف حق پہنچانے کی صورت نہ ہو تو
سوال
میں ایک محلہ میں رہتا تھا، وہاں ایک دودھ والا آیا کرتا تھا جو کہ گاؤں سے آتا تھا، وہ پورے محلہ کو دودھ دیا کرتا تھا، اور یہ غیر مسلم تھا میں نے جب وہ محلہ چھوڑا تو اس کے کچھ روپئے میری طرف نکلتے تھے، اس لئے میں نے ایک محلہ کے زمین دار آدمی کو کہدیا کہ آپ اس سے ہمارا حساب کر لینا، اور جتنے روپئے بتائے مجھ سے لے لینا، جب وہ اس محلہ میں آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ اس نے جواب دیا کہ ان کا اور ہمارا حساب ہو گیا، ان پر ہمار کوئی پیسہ نہیں ہے، لیکن جب اس سے کہا گیا کہ وہ کہہ گئے ہیں، اور بتارہے تھے اور اس کے روپئے تھے…
جواب
آپ کے نزدیک اس دودھ والے کے جتنے پیسے آپ کے ذمہ ہوں وہ پیسے ان صاحب کو دیدیں، جن کے پاس وہ کبھی کبھی دودھ دینے آتا ہے، کہ جب بھی آئے،اس کو وہ دیدیں اس میں جتنی مدت بھی انتظار کرنا پڑے، جب اس کی زندگی کی ہی توقع نہ رہے اور سمجھیں کہ مر گیا ہوگا، تو اتنے پیسے کسی غریب کو صدقہ کر دے کہ یا اللہ اس کے وبال سے مجھے بچانا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔